News : The arrest and release of 11 Iranian soldiers by Pakistan
on 2009/10/27 5:40:00 (213 reads)

11 Iranian security officials has been detained by Pakistan. The officials were arrested when they cross the border and came into Balochistan [Pakistani occupied].


بلوچستان سے دس’ایرانی اہلکار‘ گرفتار

ایوب ترین

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

گرفتارشدگان کو ماشکیل میں موجود ایف سی کیمپ متقل کر دیا گیا

پاکستانی سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہو نے کے الزام میں دس سے زائد ایرانی اہلکاروں کوگرفتار کرلیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ یہ لوگ سکیورٹی اہلکار ہیں اور ان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا۔

کوئٹہ میں فرنٹئیر کور کے ذرائع نےگرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ گرفتار ہونے والوں سے تفتیش جاری ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ فوری طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ گرفتارہونے والوں کاتعلق پاسداران انقلاب ایران سے ہے یا نہیں۔

یہ گرفتاریاں پیر کے روز کوئٹہ سے پانچ سوکلومیٹردور پاک۔ایران سرحد کے قریب ضلع واشک کے علاقے ماشکیل میں کی گئیں۔ ماشکیل سے ایک مقامی صحافی محمد فاروق نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ گرفتار ہونے والے افراد دن ایک بجے کے قریب دوگاڑیوں کے ذریعے سرحد عبور کر کے پاکستانی حدود میں کئی کلومیٹر اندر تک آگئے تھے، جہاں انہیں فرنٹیئر کور کے جوانوں نے حراست میں لے لیا۔ محمد فاروق کے مطابق گرفتاری کے بعد پاکستانی سکیورٹی فورسز نے ایرانیوں کو ماشکیل میں موجود ایف سی کیمپ متقل کر دیا۔

خیال رہے کہ آّٹھ روز قبل ایران کے صوبہ سیستان۔بلوچستان میں ایک خودکش حملے میں کئی اعلی ایرانی فوجی عہدیداروں سمیت چالیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ اس حملے کے بعد ایرانی افواج نے پاکستان سے ملحقہ سات سو کلومیٹر طویل سرحد بند کرکے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والی عسکریت پسند تنظیم جنداللہ کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا۔

سیستان حملے کے بعد ایرانی حکومت نے الزام عائد کیا تھا کہ جنداللہ کے سربراہ عبدالمالک ریکی سمیت تنظیم کے کئی اہم رہنماء پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں موجود ہیں لیکن پاکستان نے ا س دعوے کومسترد کردیا ہے۔ اس حملے کے بعد ایران کے وزیرِ داخلہ نے بھی پاکستان کا دورہ کیا اور صدر اور وزیراعظم سمیت اعلٰی حکام سے ملاقاتیں کی تھیں جن میں پاکستان نے ایران کی ہر ممکن مدد کا اعلان کیا تھا۔


http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/20 ... 1027_irani_released.shtml




بلوچستان:گرفتار ایرانی اہلکاروں کی رہائی

گرفتارشدگان کو ماشکیل میں موجود ایف سی کیمپ متقل کر دیا گیا تھا

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہو نے کے الزام میں گرفتار گیارہ ایرانی سکیورٹی اہلکاروں کو رہا کر دیا گیا ہے۔

فرنٹیئر کور کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ ان افراد نے غلطی سے سرحد پار کی تھی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ’محافظوں کو ایرانی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے کیونکہ تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ وہ غلطی سے پاکستانی حدود میں داخل ہو گئے تھے‘۔

ایران کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ یہ افراد ’ سرحدی محافظ تھے جو سمگلروں کا پیچھا کرتے ہوئے نادانستہ طور پر پاکستانی علاقے میں داخل ہوئے‘۔

خیال رہے کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے پیر کو غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہو نے کے الزام میں گیارہ ایرانی اہلکاروں کوگرفتار کیا تھا۔ یہ گرفتاریاں پیر کے روز کوئٹہ سے پانچ سوکلومیٹردور پاک۔ایران سرحد کے قریب ضلع واشک کے علاقے ماشکیل میں کی گئیں تھیں۔

ماشکیل سے ایک مقامی صحافی محمد فاروق نے بی بی سی اردو کے ایوب ترین کو بتایا تھا کہ گرفتار ہونے والے افراد پیر کو دن ایک بجے کے قریب دوگاڑیوں کے ذریعے سرحد عبور کر کے پاکستانی حدود میں کئی کلومیٹر اندر تک آگئے تھے، جہاں انہیں فرنٹیئر کور کے جوانوں نے حراست میں لے لیا۔ محمد فاروق کے مطابق گرفتاری کے بعد پاکستانی سکیورٹی فورسز نے ایرانیوں کو ماشکیل میں موجود ایف سی کیمپ متقل کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب آّٹھ روز قبل ایران کے صوبہ سیستان۔بلوچستان میں ایک خودکش حملے میں کئی اعلی ایرانی فوجی عہدیداروں سمیت چالیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ اس حملے کے بعد ایرانی افواج نے پاکستان سے ملحقہ سات سو کلومیٹر طویل سرحد بند کر کے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والی عسکریت پسند تنظیم جنداللہ کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا۔

سیستان حملے کے بعد ایرانی حکومت نے الزام عائد کیا تھا کہ جنداللہ کے سربراہ عبدالمالک ریکی سمیت تنظیم کے کئی اہم رہنماء پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں موجود ہیں لیکن پاکستان نے ا س دعوے کو مسترد کردیا ہے۔ اس حملے کے بعد ایران کے وزیرِ داخلہ نے بھی پاکستان کا دورہ کیا اور صدر اور وزیراعظم سمیت اعلٰی حکام سے ملاقاتیں کی تھیں جن میں پاکستان نے ایران کی ہر ممکن مدد کا اعلان کیا تھا۔

Printer Friendly Page Send this Story to a Friend Create a PDF from the article


Other articles
2010/7/26 19:41:07 - Two more Baloch missing persons found dead in Quetta and BNM activist killed in Awaran
2010/7/26 19:35:56 - Protest marked against the un recovery of Baloch missing persons
2010/7/24 19:54:57 - Another member of BNM Gwadar is abducted by secret agencies
2010/7/24 19:52:50 - State secret agencies are involved in killing of Najeeb Baloch,We will take revenge:BLA
2010/7/24 19:50:16 - Najeeb Baloch is martyred by torture:BNM
2010/7/23 17:57:46 - We even welcome the civil war for Baloch national independence:BLF
2010/7/23 17:55:08 - Forces under attacked in Balochistan,three killed:BRA
2010/7/20 20:42:31 - ''An appeal from a sad mother'' By Hafeez Hasan Abadi
2010/7/20 20:31:46 - FC medical camps are spreading dangerous diseases in Balochistan:BSO AZAD
2010/7/20 20:26:15 - Voice for missing persons rejected the report of Inquiry Comission



Bookmark this article at these sites

                   

Copyright © 2009. Balochwarna