News : جان سولیکی، نواب مری سےملاقات
on 2009/2/17 14:24:14 (640 reads)

پاکستان میں اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزین کے سربراہ نے بزرگ قوم پرست رہنما نواب خیر بخش مری سے ملاقات کی ہے، جس میں انہیں گزارش کی گئی ہے کہ وہ ادارے کے اہلکار جان سولیکی کی رہائی کے لیے کردار ادا کریں۔

پاکستان میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے نمائندے کی سربراہی میں تین رکنی وفد نے منگل کی شام کراچی کے علاقے ڈیفنس میں واقع بلوچ قوم پرست رہنما نواب خیر بخش مری سے ملاقات کی۔

اقوام متحدہ کے اہلکاروں کا یہ وفد بغیر حفاظتی انتظامات اور پروٹوکول ایک سفید کار میں ان کے گھر پہنچا جہاں یہ ملاقات ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ ملاقات میں نواب خیر بخش مری کے ساتھ بلوچ رائٹس کونسل کے رہنما وہاب بلوچ اور فتح محمد بلوچ بھی شریک تھے۔

اقوام متحدہ کے وفد اور نواب خیر بخش مری نے اس ملاقات پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا، تاہم بلوچ رائٹس کونسل کے رہنما وہاب بلوچ کا کہنا تھا کہ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی ہے۔

’وفد کا کہنا تھا کہ ان کے اہلکار کو کسی بلوچ گروپ نے اغوا کیا ہے اور اس حوالے سے وہ چاہتے ہیں کہ نواب خیر بخش اپنا اثر رسوخ استعمال کریں‘۔

وہاب بلوچ کے مطابق نواب خیر بخش نے کہا کہ چونکہ ان کا کسی گروپ سے براہ راست کوئی رابطہ نہیں ہے، مگر اگر بطور بلوچ بزرگ ان کی کوئی بات سنتا ہے تو وہ انہیں درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس کو انسانیت کی بنیاد پر دیکھیں کیونکہ جان سولیکی بیمار ہیں۔

اقوام متحدہ کے اہلکاروں کے ذاتی رابطوں کی بنیاد پر یہ ملاقات عمل میں آئی، ملاقات کے دوران بلوچ قوم پرست رہنماؤں نے اقوام متحدہ کے اہلکاروں کو لاپتہ مرد و خواتین کی ایک فہرست بھی پیش کی۔


بلوچ رائٹس کونسل کے رہنما وہاب بلوچ کا کہنا ہے کہ جان سولیکی کے اغوا سے بلوچ تحریک کو فائدہ پہنچا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر اداروں تک یہ بات پہنچی ہے کہ یہاں ایک قوم بستی ہے جس پر فوج مظالم ڈھا رہی ہے۔

وہاب بلوچ کا کہنا تھا کہ جان سولیکی کے حوالے سے انہیں بھی خدشات ہیں، اگر انہیں قتل کردیا جائے یا کوئی حادثہ ہوجائے، وہ بیمار ہیں اس میں ان کا انتقال ہوجائے تو یہ بلوچ تحریک کے لیے بہتر نہیں ہے۔

یاد رہے کہ جان سولیکی کو دو فروری کو کوئٹہ سے اغوا کیا گیا تھا، گزشتہ دنوں جاری کیے گئے ایک ریڈیو پیغام میں بلوچ مزاحمت کاروں کی ایک تنظیم نے اس کارروائی کا اعتراف کیا تھا۔

اس گروپ کا مطالبہ تھا کہ عقوبت خانوں میں قید بلوچ کارکنوں اور خواتین کو رہا کرایا جائے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے صدر پاکستان آصف علی زرداری سے رابطہ کرکے جان سولیکی کی بازیابی پر بات چیت کی تھی۔ جس کے بعد چاغی اور نوشکی کے علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کی اطلاعات ہیں۔

Printer Friendly Page Send this Story to a Friend Create a PDF from the article


Other articles
2010/7/26 19:41:07 - Two more Baloch missing persons found dead in Quetta and BNM activist killed in Awaran
2010/7/26 19:35:56 - Protest marked against the un recovery of Baloch missing persons
2010/7/24 19:54:57 - Another member of BNM Gwadar is abducted by secret agencies
2010/7/24 19:52:50 - State secret agencies are involved in killing of Najeeb Baloch,We will take revenge:BLA
2010/7/24 19:50:16 - Najeeb Baloch is martyred by torture:BNM
2010/7/23 17:57:46 - We even welcome the civil war for Baloch national independence:BLF
2010/7/23 17:55:08 - Forces under attacked in Balochistan,three killed:BRA
2010/7/20 20:42:31 - ''An appeal from a sad mother'' By Hafeez Hasan Abadi
2010/7/20 20:31:46 - FC medical camps are spreading dangerous diseases in Balochistan:BSO AZAD
2010/7/20 20:26:15 - Voice for missing persons rejected the report of Inquiry Comission



Bookmark this article at these sites

                   

Copyright © 2009. Balochwarna